اسلامی نظام اور رہبر معظم انقلاب کے حکیمانہ انتظام و انصرام نے اسلامی بیداری میں مؤثر کردار ادا کیا ہے / اگر وہ خیرسگالی کے پابند ہوتے تو لیبیا اور بحرین کے سلسلے میں ان کا کردار دوہرا ہوتا۔ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خبرگان کونسل کے سربراہ آیت اللہ مہدوی کَنی نے اس کونسل کے چوتھے دور کے دسویں اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ستمبر مہینے کے شہداء (صدر محمد علی رجائی اور وزیر اعظم محمد جواد باہنر نیز انقلاب کے زمانے میں 7 ستمبر کے شہداء) کو خراج تحسین پیش کیا اور اسلامی انقلاب میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: اسلامی انقلاب امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی قربانیوں اور 1963 میں شروع ہونے والی آپ رحمۃ اللہ علیہ کی جدوجہد اور عوام کی حمایت سے آخرکار 1979 میں کامیاب ہوا۔ انھوں نے کہا: اسلامی نظام کی اہم ترین خصوصیت "ولایتِ مطلقۂِ فقیہ" کا اصول ہے اور اسلامی نظام ولایت فقیہ کے بغیر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا تھا جبکہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اس نظام کے لئے قابل قبول ڈھانچہ متعارف فرمایا۔انھوں نے کہا: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے تجربے سے اس نظام کی بنیاد رکھی اور آج اسلام نظام دنیا کے بہترین نظام حکومت کے عنوان سے پہـچانا جاتا ہے۔آیت اللہ مہدوی کَنی نے کہا: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کسی وقت بھی ولایت دوسروں کو سونپنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اسی وجہ سے تمام تر امور میں مؤثر تھے اور تمام امور میں کردار ادا کرتے تھے، مجھے یاد ہے کہ حتی امام خمینی سرکاری اہلکاروں کی تقرری اور معزولی میں اظہار خیال کرتے تھے۔انھوں نےکہا: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی حیات کے دوران قابل قبول انتظام و انصرام کے عملی نمونے پیش کئے، ءٹ نے ملک کا انتظام بہترین انداز میں چلایا؛ جس زمانے میں ملک کو مسلط کردہ جنگ اور اندرونی و بیرونی چیلنجوں کا سامنا تھا امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ملک کی باگ ڈور بطریق احسن چلارہے تھے۔مجلس خبرگان کے سربراہ نے کہا: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ہم انقلابی کارکنوں کو اہمیت دی اور ہماری قدردانی کی یہاں تک کہ میں صرف ایک پیش امام تھا لیکن امام رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیں یہ مواقع دے دیئے اور ہم میدان عمل میں اترے۔ انھوں نے کہا: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ عوام کے لئے خاص احترام کے قائل تھے اور لوگوں کے مسائل کا مکمل ادراک رکھتے تھے۔ انھوں نے حوزہ علمیہ اور یونیورسٹیوں کے درمیان وحدت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ حوزات اور یونیورسٹی کے درمیان اتحاد پر مسلسل تاکید کیا کرتے تھے اور انقلاب کے استحکام کے لئے حوزہ اور جامعات کی وحدت کو عملی جامہ پہننا چاہئے۔آیت اللہ مہدوی کَنی نے انقلاب اسلامی میں علماء کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: علماء نے انقلاب اسلامی کو نتیجہ بخش بنانے میں اہم کردار ادا کیا گوکہ انقلاب کے ابتدائی برسوں میں مہدی بازرگان نے علماء کو الگ تھلگ کرنے کی تجویز پیش کی لیکن میں نے ان کے جواب میں کہا: ہم اتنی آسانی سے میدان چھوڑنے والے نہیں ہیں اور میدان عمل میں ڈٹے رہیں گے۔ انھوں نے کہا: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد مجلس خبرگان نے آپ کا جانشین منتخب کیا گو کہ دشمنوں کی کوشش یہ تھی کہ امام رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد ملک میں خانہ جنگی شروع کی جائے حتی کہ مجھے جہاں تک یاد ہے نامہ نگاروں نے خانہ جنگی کو کوریج دینے کے لئے ایران آنے کا انتظام کررکھا تھا تا کہ ایران کی ممکنہ خانہ جنگی کو ابلاغی شکل دے دیں لیکن خوش قسمتی سے رہبر انقلاب اسلامی کی حیثیت سے آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے بجا انتخاب کے ساتھ ہی دشمنوں کے تمام عزائم خاک میں مل گئے۔ انھوں نے کہا: حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے ان چندسالوں میں اپنی انتظامی صلاحیتیں ثابت کرکے دکھا دیں کیونکہ اسلامی نظام کو متعدد مسائل کا سامنا ہے لیکن موصوف نے ان تمام مسائل کا بخوبی علاج کیا۔آیت اللہ مہدوی کَنی نے خطے کے ممالک میں اسلامی بیداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: خطے کے ملکوں میں اسلامی بیداری اسلامی انقلاب کی مرہون منت ہے اور اسلامی نظام اور انقلاب اسلامی کے رہبر معظم نے اسلامی بیداری میں ناقابل انکار کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے اسلامی بیداری کو ایک عوامی تحریک قرار دیا اور کہا: مصر کے عوام نے اپنی تحریک کے ذریعے اسلامی بیداری کو ثابت کرگئے۔ انھوں نے کہا: بے شک اسلامی بیداری کا سرچشمہ اسلامی انقلاب ہے لیکن عالمی استکبار و استعمار اسلامی بیداری کی اس لہر سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے درپے ہے۔ انھوں نے علاقے کی عوامی تحریکوں کے حوالے سے امریکہ کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: کہ امریکہ کی عدم نیک نیتی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس نے مختلف ممالک میں شروع ہونے والی تحریکوں کے ساتھ مختلف قسم کا رویہ اپنا رکھا ہے اور اگر امریکیوں کی نیت نیک ہوتی تو ان کا رویہ لیبیا اور بحرین کے انقلابات کے ساتھ ایک جیسا ہونا چاہئے تھا۔آیت اللہ مہدوی کَنی نے مجلس خبرگان کے اراکین کی جانب سے خطے کی اسلامی تحریکوں سے مخاطب ہو کر کہا: بیدار و ہوشیار رہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن آپ کے انقلاب کو ہائی جیک کرلیں اور جان لیں کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ "اگر آپ دشمن کو دروازے سے نکال باہر کریں تو وہ کھڑکی سے دوبارہ آگھسے گا"۔ مجلس خبرگان کے سربراہ نے خطے کی اقوام سے مخاطب ہوکر کہا: اپنے انقلاب کی قدردانی کریں، لوگوں کو اس موقع سے استفادہ کرنا چاہئے اور ان انقلابات کے قائدین کو بھی اپنے انقلابات کے مد مقابل عالمی استعماری نظام کی مکاریوں سے ہوشیار رہنا چاہئے۔انھوں نے کہا: ہم کسی ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے لیکن بہر صورت اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ یہ انقلابات ایران کی اسلامی تحریک سے متاثر ہیں۔ آیت اللہ مہدوی کَنی نے کہا: وہ اسلامی انقلاب سے قبل وہ بین الاقوامی سطح پر اپنا دین ظاہر کرنے تک کی جرات نہیں رکھتے تھے لیکن آج جو عزت و عظمت اسلامی انقلاب نے امت کو عطا کی ہے تمام اقوام اسلام کی بات کررہی ہیں اور اسلامی نظام کی بات کررہی ہیں۔ انھوں نے کہا: ہمارا انقلاب آج بہت اچھے مقام پر فائز ہوچکا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی مسئلہ باقی نہیں رہا اور تمام مشکلات حل ہوچکی ہیں۔ آیت اللہ مہدوی کَنی نے کہا: اس انقلاب نے دنیا کے تمام سیاسی، معاشی اور معنوی تعلقات اور قواعد کو سرے سے تبدیل کردیا اور اس کو اپنی حکومت، پارلیمان، حوزات علمیہ اور جامعات کی حد تک آج کی ضروریات بھی پوری کرنی چاہئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
آیت اللہ مہدوی کنی: اسلامی بیداری ایرانی قیادت سے متاثر
اسلامی جمہوریہ ایران کی ماہرین کونسل کے سربراہ آیت اللہ محمد رضا مہدوی کنی نے عالم اسلام میں پیدا ہونے والی اسلامی بیداری کو رہبر انقلاب اسلامی کی عظیم قیادت سے متاثر قرار دیا ہے۔
ابنا: آیت اللہ محمد رضا مہدوی کنی نے آج ماہرین کونسل کے دسویں اجلاس کے افتتاح کے موقع پر خطے کے حالیہ تغیرات پر اسلامی انقلاب کے اثرات کی جانب اشارہ کیا اور انقلابیوں کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا کہ اہل لیڈروں کے انتخاب کی کوشش کیجۓ۔
آیت اللہ مہدوی کنی نے خطے کے ممالک کے داخلی امور میں یورپی حکومتوں کی مداخلت کے بارے میں کہا کہ امریکہ تمام ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کرنے کے درپے ہے۔ وہ ان ممالک کے داخلی امور میں بھی مداخلت کرنا چاہتا ہے جن میں اسلامی انقلاب رونما ہوچکا ہے۔
آیت اللہ مہدوی کنی نے مزید کہا کہ اگر یورپ والوں کے ارادے ٹھیک ہوتے تو وہ لیبیا ، مصر ، بحرین ، تیونس اور شام کے سلسلے میں ایک جیسا رویہ اختیار کرتے لیکن ان کا دہرا معیار اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں اسلامی انقلابی تحریک کامیاب ہوئي ہے جس کی علامات اسلامی نعروں اور نماز جمعہ کے اجتماعات میں دکھائي دیتی ہیں۔ ...........
/169